ٓخری قسط

ولی اللہ مجید قاسمی*

 

علمی اختلاف کی حقیقت اور اسباب وآداب

 

اختلاف صحابہ کی مثالیں:

۱۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود بنوقریظہ سے جنگ کے لئےصحابہ کرام کو روانہ کرتے ہوئے فرمایا۔

تم میں سے کوئی عصر کی نماز ہرگز نہ پڑھے مگر بنی قریظہ میں جاکر (صحیح بخاری)

اس صریح اور واضح ترین حکم کے سمجھنے میں بھی صحابہ کرام کے درمیان اختلاف ہوا، بنی قریظہ کی طرف جاتے ہوئے لوگ دو طبقوں میں بٹ گئے، کچھ لوگ کہنے لگے کہ اس جملے سے اللہ کے رسولؐ کا مقصد جلدی روانہ ہونا اور تیزی کے ساتھ چلنا تھا لیکن وسعت کے بقدر تیز چلنے کے باوجود بنوقریظہ تک پہنچتے ہوئے عصر کی نماز قضا ہوجائے گی اس لئے ہم راستے میں عصر کی نماز پڑھ کر آگے بڑھیں گے، دوسرے لوگوں کا کہناتھا کہ چاہے نماز قضا ہوجائے مگر ہم وہیں جاکر پڑھیں گے اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح لفظ کے ذریعہ ہمیں وہیں جاکر نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے، چنانچہ انھوںنے بنوقریظہ پہنچ کر عصر کی نماز پڑھی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں صریح ترین حکم کے باوجود حلال وحرام کااختلاف ہوا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو نہ ماننا یا بے وقت نماز پڑھنا دونوں حرام ہے لیکن جب آپ کو اس کی اطلاع ملی تو آپ نے کسی پر نکیر نہیںکی، اور نہ کوئی گرفت فرمائی، بلکہ اس بات کی بھی وضاحت نہیں فرمائی کہ ان میں کون صحیح تھا، اس لئے کہ آپ جانتے تھے کہ اسطرح کا اختلاف ممکن ہے اور آئندہ بھی رونماہوگا، اور اس میں کسی سے بازپرس کرنا لوگوں کی سوچ پر پہرہ بٹھانا اور اجتہادی صلاحیت کو ختم کرنا ہے، جو قیامت تک باقی رہنے والے اور ہر عہد وماحول کے سائل کا حل پیش کرنے والے دین کے لئے سخت نقصان دہ ہے۔

۲۔ایک مرتبہ سفر کے دوران پانی نہ ملنے کی وجہ سے دو لوگوں نے تیمم کرکے نماز ادا کرلی اور پھر وقت کے اندر ہی پانی مل گیا ایک صحابی نے وضو کرکے دوبارہ نماز پڑھی جب کہ دوسرے نے پہلی نماز کو کافی سمجھا۔ سفر سے واپسی کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع کی گئی آپ نے وضو کرکے دوبارہ پڑھنے والے سے فرمایاکہ تمہارے لئے دوہرا اجر ہے، اور دوسرے سے فرمایاکہ تم نے سنت پر عمل کیا اور تمہاری پہلی نماز کافی ہے۔(سنن ابودائود ۳۳۸، سنن نسائی ۴۳۳)

قرآن میں وضو کے لئے پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم کرنے کا حکم ہے، لیکن تیمم کرکے نماز پڑھنے کے بعد وقت رہتے ہوئے پانی مل جائے تو نمازکو دہرانے کی صورت میں تیمم کرنے کا حکم مذکور نہیں ہے، جس کی وجہ سے صحابہ کرام کے درمیان اختلاف ہوا اور چونکہ اس اختلاف کی گنجائش تھی اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اصل حکم بیان کرنے کے ساتھ دوبارہ پڑھنے والے کی حوصلہ افزائی فرمائی۔ اگر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اصل حکم نہ بیان فرماتے تو آج بھی یہ مسئلہ اختلافی رہتا جیسے کہ حج بدل کے سلسلے میں اختلاف ہے کہ اگر کوئی شخص حج کے لئے جانے پر قدرت نہ رکھنے کی وجہ سے کسی کو اپنی طرف سے حج کرادے اور پھروہ تندرست ہوجائے تو کہا اس کے لئے خود حج کے لئے جانا ضروری ہے یا نہیں۔

۳۔حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ کے درمیان متعدد مسئلوں میںاختلاف تھا یہاں تک کہ جب حضرت عمرؓ خلیفہ ہوئے تو انھوںنے حضرت ابوبکرؓ کے بعض فیصلوں کو بدل ڈالا لیکن اس کے باوجود دونوں کے دل ایک دوسرے کے احترام سے لبریز تھے، اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کا کیا جواب دیں گے؟ تو برجستہ فرمایاکہ میں عرض کروںگا کہ تیرے بندوں میں سے سب سے بہتر کو اپنی جگہ متعین کرکے آیا ہوں، ایک مرتبہ کسی نے حضرت عمرؓ سے کہاکہ آپ ابوبکرؓ سے بہتر ہیں۔ تو ان کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے اور روتے ہوئے فرمایاکہ ان کی ایک رات عمر اور آل عمر سے بہتر ہے۔

۴۔علامہ ابن قیم کے بیان کے مطابق سو سے زیادہ مسائل میں حضرت عمرؓ اور ابن مسعودؓ کے درمیان اختلاف رہا ہے، لیکن اس کے باوجود باہمی ربط و ضبط اور عقیدت ومحبت میں کوئی کمی نہ تھی، ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن مسعود کو آتے ہوئے دیکھ کر حضرت عمرؓ نے فرمایاکہ علم و فقہ کا خزانہ آرہا ہے۔ اور جب ابن مسعودؓ کے سامنے حضرت عمرؓ کا تذکرہ ہوتا تو فرماتے کہ وہ اسلام کا ایسا قلعہ تھے کہ جس میں لوگ داخل ہوکر باہر نہیں نکلتے تھے لیکن ان کی شہادت کی وجہ سے اس میں شگاف پڑگیا۔

۵۔جنگ جمل میں حضرت طلحہؓ، حضرت علیؓ کے مخالف خیمے میں شامل تھے، اور اسی جنگ میں وہ شہید ہوئے، ان کے لڑکے حضرت عمران جب حضرت علیؓ کے پاس آتے تو اپنے قریب بٹھاتے اور فرماتے کہ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ کو اور تمہارے والد کو ان لوگوں میں شامل کرے گا جن کے بارے میں قرآن میں ہے کہ:

ہم ان کے سینوںمیں موجود خفگی کو ختم کردیں گے اور وہ مسند پر آمنے سامنے بھائی بن کر بیٹھے ہوں گے۔

اس محفل میں موجود دو شخص کہنے لگے کہ یہ دیکھوکل تک تو لڑتے رہے اور جنت میں جاکر بھائی بن جائیں گے، کہا انصاف پر مبنی اللہ کا فیصلہ ایسا ہوسکتاہے، یہ سن کر حضرت علی ناراض ہوگئے اور کہنے لگے کہ تم دونوں میرے ساتھ رہنے کے لائق نہیں ہو یہاں سے اٹھو اور کہیں اور چلے جاؤ۔ اگر میں اور طلحہ ایسے نہیں ہوں گے تو پھر کون ہوگا؟ (ادب الخلاف /۲۵)

۶۔حضرت زید بن ثابت اور ابن عباس کے درمیان ایک مسئلہ میں شدید اختلاف تھا اس کے باوجود ایک دن انھوں نے حضرت زید کو سواری پر دیکھا تو اس کی رکاب پکڑکر چلنے لگے، انھوں نے کہاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد! اسے چھوڑدیجیے، انھوں نے کہاکہ نہیں، ہمیں اہل علم اور بڑوں کے ساتھ ایسا ہی کرنے کا حکم دیاگیا ہے، حضرت زید نے کہاکہ اچھا اپنا ہاتھ دکھلائیے، انہوں نے اپنا ہاتھ بڑھایا تو حضرت زید نے اسے چوم کر کہاکہ ہمیں اہل بیت کے ساتھ ایسا ہی کرنے کاحکم دیاگیا ہے۔ اور جب ان کا انتقال ہوا تو حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ اسی طرح سے علم مٹ جائے گا، آج علم کاایک بڑا حصہ زمین میں دفن ہوگیا۔(حوالہ مذکور ۲۴)

صحابہ کرامؓ کے درمیان یہ اختلاف صرف فروعی مسائل میں ہی نہیں تھا بلکہ اعتقادی نوعیت کے ضمنی مسئلوں میں بھی اختلاف رہاہے، چنانچہ علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں کہ صحابہ کرام میں جن مسائل میں اختلاف تھا اس میں ان کے درمیان اس بات پر اتفاق تھاکہ ہرفریق اپنے اجتہاد پر عمل کرسکتا ہے جیسے عبادات، نکاح اور میراث وغیرہ کے مسائل۔۔۔ اور بعض اعتقادی مسائل میں بھی ان کے درمیان اختلاف رہاہے جیسے میت کا زندہ آدمی کی آواز سننا اور اس کے اہل و عیال کے رونے کی وجہ سے اسے عذاب کاہونا اور معراج کے موقع پر آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے رب کو دیکھنا (دیکھئے فتاویٰ ابن تیمیہ ۱۲۲/۱۹)

فرق صرف یہ ہے کہ فقہی میدان کا اختلاف وسیع ہے اور عقیدہ کا اختلاف بہت محدود ہے، لیکن ہرطرح کے اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کےخیرخواہ تھے، اخوت ومحبت کے وسیع میدان میں کبھی تنگی محسوس نہیں ہوتی تھی، ان کے دل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے اور اللہ کی مضبوط رسی سے بندھے ہوئےتھے۔

تابعین اور ائمہ مجتہدین

تابعین میں بھی باہم متعددمسائل میں اختلاف تھا، کچھ لوگ نماز میں بسم اللہ نہیں پڑھتے تھے، اور بعض لوگ آہستہ پڑھتے اور دوسرے لوگ آواز سے، کچھ لوگ نکسیر اور قے سے وضو کے قائل تھے، کچھ نہیں تھے لیکن اس کے باوجود باہم احترام وتوقیر میں کوئی فرق نہیں تھا وہ ایک دوسرے کی اقتدا میں کسی جھجک کے بغیر نمازادا کرتے تھے، اسی طرح سے ائمہ مجتہدین میں سے ہر ایک سے دوسرے کے متعلق تعریفی کلمات منقول ہیں۔ حالانکہ ان کے درمیان جو اختلاف ہے وہ محتاج بیان نہیں ہے۔

ایک مرتبہ ہارون رشید نے وضو کے بعد اپنے جسم سے فاسدخون نکلوایا اور دوبارہ وضو کیے بغیر نماز پڑھائی اور امام ابویوسف نے ان کی اقتدا میں نماز ادا کی، حالانکہ ان کے نزدیک جسم سے خون کا نکلنا ناقص وضو ہے، حنفیہ کی طرح امام احمد بن حنبل بھی خون نکلنے کی وجہ سے وضو ٹوٹ جانے کے قائل ہیں، لیکن جب ان سے پوچھا گیاکہ اگر امام کو خون نکل آئے اور وہ وضو نہ کرے تو کیا آپ اس کے پیچھے پڑھیں گے؟ انھوں نے جواب دیااورکہا میں امام مالک اور سعید بن مسیب کی اقتدار میں نماز پڑھوںگا۔ یعنی یہ دونوں حضرات بھی خون کی وجہ سے وضو ٹوٹنے کے قائل نہ تھے تو کیا اگریہ موجود ہوتے اور نماز پڑھاتے تو میں ان کے ساتھ شریک نہ ہوتا۔(ادب الخلاف /۴۳)

امام احمد بن حنبل اور امام بخاری وغیرہ کے مایہ ناز استاذ علی بن مدینی میں ایک مسئلے میں اختلاف ہوا اور بحث و تکرار کی نوبت آگئی، اندیشہ تھا کہ اس کی وجہ سے بدمزگی پیدا ہوجائے گی لیکن جب ابن مدینی واپس جانے کے لئے سواری پر بیٹھے تو امام احمد بن حنبل نے اس درجہ احترام کامعاملہ کیاکہ سواری کی رکاب تھام لی۔ (جامع بیان العلم ۱۰۷/۲)

امام شافعی اور ان کے شاگرد یونس حلافی کے درمیان ایک مسئلے کو لے کر خوب بحث وتکرار ہوئی، لیکن جب دوبارہ ملاقات ہوئی تو امام شافعی نے ان کاہاتھ پکڑکر کہا اگرچہ ہم ایک مسئلے میں متفق نہ ہوسکے تو کیا آپس میں بھائی بن کر نہیں رہ سکتے۔ (سیراعلام النبلا ۱۶/۱۰)

یعنی ایمانی اخوت و محبت اور باہمی احترم و قدردانی بہرحال ضروری ہے، اور ایسے عمل سے پرہیز کرنا لازمی ہے جو آپسی انتشار اور فرقہ بندی اور نفرت و کدورت کا ذریعہ بنے۔ اگرچہ اس کے لئے کسی پسندیدہ اور مستحب کام کو چھوڑنا پڑے۔ چنانچہ علامہ ابن تیمیہ نے لکھاہے کہ اگر کہیں مسلمانوں کا کسی بات پرعمل نہ ہوں کیونکہ وہ اس کے قائل نہیں ہیں اور دوسرا کوئی شخص اسے مستحب اور بہتر سمجھتاہوتو اسے وہاں جاکر اس مستحب عمل کو ترک کردینا چاہیے کیونکہ مسلمانوں کے درمیان باہمی الفت ومحبت اور دل جوئی اس طرح کےمستحبات سے زیادہ اہم ہے۔ (فتاویٰ ابن تیمیہ ۴۰۶/۲۲)

اختلاف رحمت وسہولت کاباعث ہے

مخلصانہ اختلاف رائے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک رحمت اور نعمتہے۔ جس میں رہتی دنیا تک باقی رہنے والی امت کے لئے بڑی سہولت ہے، اس لئے کہ اجتہادات کے نتائج مختلف ہونے کی وجہ سے زمان ومکان اور حالات و واقعات کے بدلنے کے نتیجے میں پیش آنے والے مسائل کے حل میں ان سے بڑی مدد ملتی ہے۔ اگر صرف ایک ہی رائےہوتی تو ایسی صورت میں بڑی پریشانی اور دقت محسوس ہوتی، اور اس کے برخلاف عمل کرنے میں بڑی تنگی اور کراہت ہوتی، چنانچہ خلیفہ راشد حضرت ابوبکرؓ کے پوتے حضرت قاسم بن محمد کہتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ کے اختلاف کو اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لئے بڑا نفع بخش بنایا ہے، اگر کوئی ان میں سے کسی کے قول وعمل کو اپنالے تو وہ محسوس کرے گا کہ اس کی گنجائش ہے اور اسے اطمینان رہے گا کہ اس پر مجھ سے بہتر لوگوں کا عمل رہاہے۔ (جامع بیان العلم ۸۰/۲)

اور حضرت عمر بن عبدالعزیز کہاکرتے تھے اگر صحابہ کرام میں تمام باتوں میں اتفاق ہوتا تو اس سے ہمیں خوشی نہیں ہوتی بلکہ ان کا اختلاف میرے لئے باعث مسرت ہے کیونکہ اگر ان سے صرف ایک قول منقول ہوتا تو لوگ تنگی میں پڑجاتے۔ (حوالہ مذکور) ان سے کسی نے درخواست کی کہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ آپ یکساں قانون نافذ کردیتے، انھوں نے جواب دیاکہ مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ اختلافات ختم ہوجائیں۔ (سنن دارمی باب اختلاف الفقہاء۱۵۱/۱)

امام مالک سے بعض عباسی خلفاء نے خواہش ظاہر کی کہ آپ کی کتاب موطا کو ملکی قانون کا درجہ دے دیاجائے تاکہ تمام لوگ اسی کے مطابق فتویٰ دیں اور عمل کریں اور اس طرح سے اختلاف ختم ہوجائے۔ لیکن امام مالک نے اس سے یہ کہتے ہوئے انکارکردیاکہ مختلف جگہوں پر الگ الگ حدیثیں پہنچ چکی ہیں۔ اور فقہا کی رایوں میں اختلاف ہے اس لئے لوگوں کو ان کے چھوڑنے پر مجبور نہ کیاجائے۔ (دیکھئے طبقات کبری ۴۴۰/۱ سیراعلام النبلاء۷۸/۸) بعض لوگوں نے اس موقع پر امام مالک کا یہ قول نقل کیا ہےکہ:

اس امت کے لئے علما کااختلاف رحمت ہے۔ (کشف الخفا للعجلونی ۶۵/۱)

اور علامہ ابن قدام حنبلی صحابہ کرام کے اختلاف کے متعلق لکھتے ہیں:

ان کاکسی مسئلے میں اتفاق ایک قطعی دلیل ہے اور اختلاف ایک بڑی رحمت ہے۔ (المغنی ۲۹/۱)

علامہ ابن تیمیہ نے لکھاہے کہ ایک صاحب نے فقہاء کے اختلافی مسائل کو کتابی شکل میں جمع کیا اور اس کا نام کتاب اختلافرکھا۔ امام احمد نے ان سے کہاکہ اس کے بجائے اس کا نام کتاب السعۃ (سہولت اور گنجائش کی کتاب) رکھو۔ (فتاویٰ ابن تیمیہ ۷۹/۳۰)

اس لئے اختلاف سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کہ ہر ایک فطری اور طبعی چیز ہے، صرف ضرورت اس بات کی ہے کہ اسے برداشت کرنے کی عادت ڈالی جائے اور اختلافی مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے اس کے آداب کی رعایت رکھی جائے۔ جس نقطہ نظر سے مطمئن ہواس پر قائم رہے اور اس کے برخلاف لوگوں کے عمل کو باطل اور گناہ قرار نہ دے، اور نہ ان کی نیتوں پر حملہ کرے اور اس کی عیب جوئی اور لغزشوں کی تلاش میں نہ رہے کہ یہ ایمانی اخوت اور انسانی مروت کے خلاف ہے۔ علامہ صالح بن عبداللہ لکھتے ہیں کہ اختلافی مسائل میں غلو کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے متاثر شخص متقدمین کی بعض ایسی عبارتوں کو ڈھونڈ کر لاتا ہے جس سے بعض اماموں کی تنقیص ہوتی ہے، یہ شخص اس طرح کی چیزوں کو مختلف جگہوں سے تلاش کرکے جمع کرتی اور پھر انہیں پھیلاتا ہے اور بغض عداوت کی تخم ریزی کرتی ، علمی لغزشوں اور فقہی شذوذکو ڈھونڈنے اور انھیں عوام میں پھیلانے سے صرف مخصوص مسلک ہی نہیں بلکہ پورے دین پر اعتماد مجروح اور متزلزل ہوجاتا ہے، یہ کام نہایت بدترین اوراسلام سے عداوت پر مبنی ہے، ایسا کرنا بیمار دل اور بدنیت شخص کا کام ہے۔ (ادب الخلاف ۵۴)

حدیث افتراق امت

بعض کتابوں میں یہ حدیث مذکور ہے کہ:

بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹ گئے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، سب جہنم میں جائیں گے سوائے ایک کے۔ لوگوں نے پوچھاکہ وہ کون لوگ ہوں گے؟ فرمایاکہ جو میرے اور میرے صحابہ کے طریقہ پر ہوں۔

اس حدیث کو امام احمد اور ترمذی وغیرہ نے نقل کیا ہے۔ اور بعض محدثین نے اسے صحیح یا حسن قرار دیا ہے، اس کے برخلاف علامہ ابن حزم اور ابن وزیر وغیرہ نے اسے ضعیف کہا ہے۔

اس حدیث کو پیش کرکے بعض لوگ یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ صرف وہی جنتی ہیں اور دوسرے لوگ ان سے اختلاف کی وجہ سے بہتر فرقوں میں شامل ہیں اور ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہیں گے، لیکن یہ ایک غلط تصور ہے خود مذکورہ حدیث کے الفاظ سے اس خیال کی تردید ہوتی ہے اور کلمہ گو ہونے کی حیثیت سے اختلاف کے باوجود اتحاد کی تائید ہوتی ہے اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختلاف کے باوجود تمام فرقوں کو اپنی امت کہاہے، جس کامطلب ہے کہ وہ تمام فرقے اور گروہ امت محمدیہ میں شامل ہیں چنانچہ علامہ خطابی لکھتے ہیں:

یہ حدیث بتلاتی ہے کہ ان میں سے کوئی فرقہ دین اسلام سے خارج نہیں ہے اس لئے کہ اللہ کے رسول نے ان سب کو اپنی امت قرار دیا ہے۔ (معالم السنن ۴/۷)

یہی بات علامہ عبدالوہاب شعرانی اور امام ابواسحاق شاطبی نے بھی لکھی ہے (دیکھئے الیواقیت ۱۶۸/۲، الموافقات ۱۹۳/۴)

اور علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں:

اسی طرح سے تمام بہتر فرقے، ان میں جو منافق ہوگا وہ تو باطن میں کافر ہے اور جو منافق نہیں ہے بلکہ باطن میں بھی اللہ اور رسول پر ایمان رکھنے والا ہے تو وہ کافر نہیں ہے اگرچہ وہ تاویل میں خطاکار ہو، اور کیسی ہی غلطی کرے۔ (فتاویٰ ابن تیمیہ ۲۱۸/۷)

اور حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ بعض فرقے بدعملی اور بداعتقادی کی وجہ سے جہنم میں ڈالے جائیں گے لیکن پھر ایمان کی بنیادپر انھیں وہاں سے نکال کر جنت میں داخل کیا جائے گا جیسے کہ یتیموں کےمال کوباطل طریقے سے کھانے والوں کے متعلق قرآن میں ہے کہ:

وہ اپنے پیٹ میں آگ بھررہے ہیں اور جلد ہی جہنم میں داخل کردیے جائیں گے۔(سورہ نساء/۱۰)

ظاہر ہے کہ کسی کے نزدیک اس کامفہوم یہ نہیں ہے کہ ایسے لوگ اپنے گناہوں کی وجہ سے ہمیشہ جہنم کا ایندھن بنے رہیں گے بلکہ ایک متعین وقت تک سزا بھگتنے کے بعد مومن ہونے کی وجہ سے وہ وہاں سے نکالے جائیں گے، یہی حال بدعملی اور بداعتقادی میں مبتلا فرقوں کابھی ہوگا، لیکن اگر ان کی بداعتقادی کفر تک نہیں پہنچی ہوئی ہے تو وہ کافر نہیں سمجھے جائیں گے، چنانچہ تمام علماء کا اتفاق ہے کہ اسلامی فرقوں میں سب سے پہلا فرقہ خوارج کا ہے اور وہی اس حدیث کے مصداق ہیں جس میں کہاگیاہے کہ:

اس شخص کی نسل سے ایک ایسی قوم نکلے گی جس کی زبان کتاب الٰہی کی تلاوت سے تر ہوگی لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی یہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے کہ شکار سے تیر۔ اگر وہ میری زندگی میں پیدا ہوگئے تو انھیں قوم ثمود کی طرح سے ہلاک کردوں گا۔ (بخاری ۴۳۵۱، مسلم ۱۰۶۴)

زید بن وھب کہتے ہیں کہ وہ حضرت علیؓ کے ساتھ اس لشکر میں موجود تھے جنھوںن ے خوارج سے جنگ کی تھی جنگ سے پہلے حضرت علیؓ نے کہاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میری امت میں کچھ ایسے لوگ ہوںگے جو قرآن پڑھیں گے۔۔۔۔۔ اور ان کی نشانی یہ ہوگی ان میں ایک ایسا شخص ہوگا جس کے صرف بازو ہوں گے، کلائی نہیں ہوگی، جنگ کے بعد خوارج کے مقتولین میں تلاش کے بعد اسی طرح کاایک شخص پایاگیا، حضرت علیؓ نے اسے دیکھ کرنعرہ تکبیر بلند کی اور کہاکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا۔ (دیکھئے صحیح مسلم مع المنہاج ۶۷۳/)

لیکن ایسے لوگوں کو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت میں شمار کیا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ جب حضرت علیؓ سے ان کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا۔یہ ہمارےبھائی ہیں جنھوںنے ہمارے خلاف بغاوت کی ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ۳۷۷۳، سنن کبری ۱۷۳/۸)

او ر مذکورہ روایت میں دین سے خروج کی تاویل کی گئی ہے کہ اس سے مراد اسلام سے خروج نہیں بلکہ امام کی اطاعت سے خروج ہے، یعنی بغاوت (دیکھئے المنہاج للنوی ۶۶۹) چنانچہ امام نووی لکھتے ہیں کہ امام شافعی۔ اور ان کے اکثر شاگردوں کے نزدیک خوارج کو کافر نہیں کہاجائےگا، یہی حکم قدریہ معتزلہ کا بھی ہے۔ (حوالہ مذکور)

اور علامہ شافعی لکھتے ہیں:

اکثر تابعین اور محدثین کے نزدیک خوارج کا حکم باغیوں جیساہے، اور بعض محدثین انھیں کافر قرار دیتے ہیں لیکن علامہ ابن منذر کہتے ہیں کہ میں نہیں چاہتاکہ کوئی بھی اس معاملے میںان محدثین کے ساتھ ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ خوارج کو کافر کہنے پر تمام فقہاء کا اتفاق ہے۔ (روالمحتار۴۱۳/۶)

اور جب خوارج جسے فرقے کو کافر قرار نہیں دیاگیاہے تو پھر اس سے بہت کم درجے کے اختلاف کی وجہ سے کسی کو کافر یا گمراہ قرار دینا کیسے صحیح ہوگا۔ اور کیونکر اس کی وجہ سے فرقہ بندی اور مسجدوں کو الگ کرنے کی اجازت ہوگی اور ایک دوسرے کی نمازوں کے غیردرست ہونے کافتویٰ صادر کرنا صحیح ہوگا۔ واقعہ یہ ہے کہ آج مسلمانوں کی بہترین صلاحیتیں اور ذہانتیں فروعی مسائل میں مناظرہ بازی میں ضائع ہورہی ہیں۔ علم و تحقیق کاسارا زور اس پر صرف ہورہاہے کیسے دوسرے فریق کو گمراہ اور اس کے موقف کو بے وزن ثابت کردیاجائے۔ سینے کے نیچے اور اوپر ہاتھ باندھنے پرلڑائی ہورہی ہے اور اس کی وجہ سے مسجدیں الگ ہورہی ہیں، حالانکہ ان کا دشمن ان کے ہاتھ کے کاٹنےکی تیاری میں ہے اور ان کے قبلہ و کعبہ کو منہدم کرنے کی سازشیں کررہا ہے۔ اور ان میں اس طرح کے اختلافات کو ہوا دے کر انھیں اپنی ریشہ دوانیوں سے غافل رکھناچاہتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ امت کی صفوں میں پائے جانے والے انتشار کو ختم کیاجائے۔ اختلاف کو برداشت کرنے اور دوسرے کی رائے کو اہمیت دینے کی عادت ڈالی جائے۔ اور علمی و فقہی اختلاف کو فرقہ بندی کا ذریعہ بنایا جائے اور دشمنان اسلام نے جو محاذ کھول رکھا ہے ان پر اپنی صلاحیتیں اور توانائیاں صرف کی جائیں اور مسلمان جس پستی اور رسوائی کا شکار ہیں، انھیں ان سے نکالنے کی کوشش کی جائے۔

***