ولی اللہ مجید قاسمی*

علمی اختلاف کی حقیقت اوراسباب وآداب

شکل وصورت ، قدوقامت، زبان وبیان اور رنگ ونسل کے اختلاف کی طرح عقل و فکر اور طبیعت ومیلان کا اختلاف ایک حقیقت ہے، جس کی وجہ سے فقہی اور علمی احکام و مسائل میں اختلاف ایک فطری اور طبعی امر ہے، جسے نہ ختم کیا جاسکتا ہے اور نہ اس سے بچ کر رہا جاسکتا ہے۔

یہ اختلاف کسی انسان کے باشعور اور دیانت دار ہونے کی دلیل ہے، مفتی محمد شفیع نے بجا طور پر لکھا ہے کہ :

اگر کسی کے دل میں یہ خواہش ہو کہ نظریات کے اختلاف مٹ جائیں تو یہ تمنا کبھی پوری نہیں ہوسکتی ہے، وجہ اس کی یہ ہے کہ نظریاتی اختلاف کا مٹ جانا دو ہی صورتوں میں ممکن ہے یا تو سب بے عقل ہوجائیں یا بددیانت ۔ (رسالہ وحدت امت)

اگرعقل اورسوچنے سمجھنےکی صلاحیت موجود نہ ہوتو کسی نے کوئی بات کہہ دی تو دوسرا اس کی تائید اور تصدیق کے سوا اور کیا کرسکتا ہے، یا عقل ہے مگر بددیانت ہے، اس لئے اختلاف کے باوجود حق گوئی کی جرأت نہیں کرتا ہے، اگر عقل و ذہانت دونوں ہوں تو پھر اختلاف ناگزیر ہے۔

یہی وجہ ہے کہ نبیوں جیسی پاکباز اور معصوم ہستیوں کے درمیان بھی اختلاف ملتا ہے، حضرت داؤدؑ اورسلیمان ؑ کے درمیان ایک فیصلے میں اختلاف کو خود قرآن حکیم میں بڑے اہتمام سے بیان فرمایاگیا ہے۔ نبیوں اور رسولوں کے بعد سب سے زیادہ پاکیزہ گروہ صحابہ کرامؓ کی جماعت ہے،ان میں بھی باہم بے شمار مسائل میں اختلاف رہا ہے، یہی حال تابعین عظام اور ائمہ کرام کا بھی ہے جو کتاب وسنت سے خوب واقف ، انتہائی مخلص اور خواہش نفس سے کوسوں دور تھے۔ اس سلسلے میں اہمیت اس کی ہے کہ اختلاف دلوں میں نفرت اور کدورت کا سبب نہ بنے، بلکہ الفت ومحبت اور یگانگت برقرارر ہے، جیسا کہ صحابہ کرامؓ کا حال تھا کہ وہ اختلاف کے باوجود سیر وشکر ہوکر رہتے، کسی کی نیت پر حملہ نہ کیا جائے اور اس کی وجہ سے کسی کے احترام میں کمی اور عزت نفس پر آنچ نہ آنے دیاجائے۔ یہ یقین رکھا جائے کہ ہر ایک مقصد میں متحد ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت اور اتباع کا جذبہ۔

اس معاملے میں جوچیز ممنوع اور قبیح ہے وہ ہے اختلاف کو فرقہ بندی اور دشمنی کا ذریعہ بنا لینا اور اس کی وجہ سے ایک دوسرے کی عزت وآبرو کو حلال سمجھ لینا۔ اس کی برائیوں اور لغزشوں کو تلاش کرنا اور پھیلانا، بدگمانی اور بدزبانی کرنا، حالانکہ یہ اختلافات زیادہ تر ایسے معاملات میں ہیں جو فروعی ہیں اور ان میں ایک سے زیادہ نقطۂ نظر کی گنجائش ہے اور اس کے برخلاف مسلمانوں سے الفت و محبت کرنا، اور ان کے احترام و اکرام کا لحاظ رکھنا اور ایک دوسرے سے بغض و عداوت اور حسد کا حرام ہونا، بدگمانی اور بدگوئی سے بچنا، غیبت اور الزام تراشی اور عیب جوئی سے پرہیز کرنا قطعی اوریقینی دلیل سے ثابت ہے، جس سے اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

فقہی اختلاف کی حقیقت

مسائل و احکام میں اختلاف کے بارے میں بعض لوگ یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ کتاب وسنت کے مقابلے میں شخصی رایوں اور ذاتی رجحانات کا نتیجہ ہیں، اس لئے انھیں چھوڑ کر کتاب وسنت کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور ایسا کرنے سے اختلافات مٹ جائیں گے، لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس طرح کا دعویٰ کرنےو الوں کے درمیان بھی سیکڑوں مسائل میں اختلاف ہیں۔

اس لیے کہ ائمہ کے درمیان اختلاف، کتاب وسنت میں اجتہاد کا نتیجہ ہے اور جب بھی اجتہاد کی نوبت آئے گی تو عقل وفہم میں تفاوت کی وجہ سے اختلاف ضرور پیدا ہوگا۔ جس کی تفصیل یہ ہے کہ شریعت کی بنیادی دلیلیں چار ہیں: کتاب وسنت ، اجماع اور قیاس، نبوت کے اعتبار سے قرآن کریم کی تمام آیتیں قطعی اور یقینی ہیں۔ لیکن تمام حدیثوں اور اجماعی مسائل کو یہ حیثیت حاصل نہیں ہے۔ ان میں سے بعض قطعی ہوتی ہیں جیسے حدیث متواتر اور قطعی ذریعے سے حاصل شدہ اجماع، اور بعض روایتیں ظنی ہوتی ہیں، یعنی ان کی صحت قطعی اور یقینی نہیں ہوتی ہے، بلکہ ان کی صحت وضعف کا حکم اجتہادی ہوتا ہے جس کی وجہ سے ایک حدیث کسی محدث کی نظر میں صحیح ہوتی ہے ، مگردوسرے کے یہاں ضعیف مانی جاتی ہے۔ جیسے کہ امام مسلم روایت کی بعض شکلوں میں ثبوت کے لئے راوی اور اس کے استاذ کا ہم عصر ہونا کافی قرار دیتے ہیں۔ دونوں کی ملاقات کے ثبوت کا مہیا ہونا ضروری نہیں ہے اس کے برخلاف امام بخاری وغیرہ ثبوت ملاقات کو ضروری قرار دیتے ہیں۔ اس شرط کے نتیجے میں سیکڑوںایسی حدیثیں ہیں جو دونوں کے درمیان اختلافی بن گئیں۔ زیادہ تر حدیثوں کا تعلق اسی دوسری قسم سے ہے ۔ متواتر روایتوں کی تعداد بہت محدود ہے۔ اسی طرح سے قیاس بھی ظنی ہے۔

اورمفہوم کے اعتبارسے آیتیں اور روایتیں دونوں دو طرح کی ہیں۔ بعض اپنے معنی اور مفہوم پر اس طرح سے دلالت کرتے ہیں کہ اس میں دوسرے مفہوم کی گزارش نہیں رہتی ہے اور بعض میں ایک سے زائد مفہوم کا احتمال رہتا ہے۔ اور اسی کی بنیاد پر اختلاف پیدا ہوتا ہے، جیسے کہ بنوقریظہ سے متعلق واضح اور صریح ترین فرمان نبوی کو سمجھنے میں صحابہ کرامؓ کے درمیان اختلاف ہوا لیکن آپ ﷺ نے کسی پر نکیر نہیں فرمائی، اس طرح کی جگہوں میں فقہاء مجتہدین نے پوری دیانت داری اور اخلاص کے ساتھ حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کی مگر فکر وفہم اور مزاج ومذاق میں فرق کی وجہ سے اس کے نتائج میں اختلاف ہوا۔

اسباب اختلاف

بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ صحیح حدیثوں پر عمل کرکے اختلاف کو ختم کیا جاسکتا ہے، لیکن حقیقت کی دنیا سے اس کی تائید نہیں ہوتی ہے۔ اس لئے کہ حدیثوں کی صحت اور صحیح حدیثوں کی شرطوں کے سلسلے میں خود محدثین کے درمیان اختلاف ہے، اسی طرح سے حدیث کے راویوں کو ضعیف اور قابل اعتماد قرار دینے میں بھی سب متحد نہیں ہیں۔ جیسے کہ رکوع میں قرآن مجید پڑھنے کی ممانعت سے متعلق حدیث امام مسلم کے نزدیک صحیح ہے لیکن امام بخاری کی نگاہ میں غیر معتبر ہے اس لئے وہ رکوع میں قرآن حکیم پڑھنے کو جائز سمجھتے ہیں۔

نیز اختلاف کی وجہ بعض حدیث کا ثبوت اور عدم ثبوت نہیں ہے بلکہ اس کے متعدد اسباب ہیں۔ مثلاً اس میں ایک سے زائد مفہوم کی گنجائش ہے جیسے کہ حدیث میں ہے کہ نماز کی ابتداء تکبیر سے ہے۔تحریمہا التکبیر کیا اس میں تکبیرسے مراد لفظ اللہ اکبر کہتا ہے۔ یا مقصد اللہ تعالیٰ کی کبریائی اور عظمت کا اعلان ہے، لہٰذا کوئی بھی تعظیمی کلمہ کافی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس میں دونوں معنوں کی گنجائش ہے۔ اسی طرح سے ایک روایت میں ہے کہ بیچنے والے اور خریدار میں سے ہر ایک کو بیع کے ختم کردینے کا اختیار ہے جب تک کہ دونوں الگ نہ ہوجائیں، البیعان بالخیار مالم یتفرقا کہا اس حدیث میں الگ ہونے سے مراد جسمانی اعتبار سے الگ ہونا اور مجلس بیع سے ہٹ جانا ہے، یا قومی اعتبار سے دونوں کا الگ اور غیر متحد ہونا ہے۔ امام مالک جیسے محدث اور فقیہ نے اسی دوسرے مفہوم کو اختیار کیا ہے اور یہی رائے امام ابو حنیفہ کی بھی ہے اس کے برخلاف امام شافعی اور احمد بن حنبل نے پہلے مفہوم کو ترجیح دی ہے ، لیکن جب ان کے سامنے محدث ابن ابی ذئب نے سخت الفاظ میں امام مالک پر نکیر کی تو انھوں نے کہا کہ امام مالک نے حدیث رد نہیں کی ہے بلکہ اس کی تاویل کی ہے۔ (طبقات الحنابلہ۱؍۲۵۱) اور تاویل و تردید کے درمیان وہی فرق ہے جو زمین وآسمان میں ہے اور اسی فرق کو نظرانداز کردینے کی وجہ سے حدیث کے انکارکا الزام لگادیا جاتا ہے۔

اسی طرح سے کبھی ایک مسئلے سے متعلق صحیح حدیثیں موجود ہوتی ہیں ، مگر ان کے مفہوم میں باہم تعارض ہوتا ہے، ایسی صورت میں یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ کونسا حکم پہلے کا ہے اور کون بعد کا ہے یا اس کا محل اور موقع کیا ہے۔ ان میں جمع اور ترجیح کے بارے میں اختلاف ہوتا ہے جیسے کہ حالت احرام میں نکاح کا مسئلہ ہے، حضر ت عثمان غنیؓ سے منقول روایت کے مطابق حالت احرام میں نکاح ممنوع ہے، اس کے برخلاف حضرت ابن عباسؓ سے مروی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت میمونہ ؓ سے حالت احرام میں نکاح کیا، دونوں طرح کی حدیثیں صحیح بخاری و مسلم دونوں میں مذکور ہیں، اور امام مسلم نے حضرت میمونہؓ سے نقل کیا ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے ان سے احرام سے نکل جانے کے بعد نکاح کیا۔ (دیکھیے بلوغ المرام؍۳۰۸)

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ صحیح حدیث ، قرآنی آیت یا مسلم معاشرے میں تواتر کے ساتھ جو سنت منقول ہے اس کے برخلاف ہوتی ہے اور ظاہر ہے کہ حدیث کے مقابلے میں قرآنی آیت یا سنت کو فوقیت حاصل ہوگی۔ اس لئے حدیث میں تاویل وغیرہ کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے، جیسے کہ حضرت فاطمہ بنت قیس کہتی ہیں کہ میرے شوہر نے مجھے تین طلاق دے دی اور رسول اللہ ﷺ نے میرے لئے ان کی طرف سے اسے نفقے کا کوئی نظم نہیں فرمایا لیکن جب حضرت عمرؓ سے یہ روایت نقل کی گئی تو انھوں نے فرمایا کہ ہم اللہ کی کتاب یا نبی کریمﷺ کی سنت کو ایک عورت کے کہنے کی وجہ سے نہیں چھوڑ سکتے۔ ہمیں معلوم نہیں ہے کہ شایداس نے یاد رکھا یا بھول گئی۔ (رواہ مسلم نیل الاوطار۲؍۱۴۴۶) اسی طرح سے حضرت عائشہ صدیقہؓ نے ان پر شدید نکیر فرمائی، اور ان کے واقعے کاایک خاص پس منظر بیان فرمایا۔ (صحیح بخاری وغیرہ نیل الاوطار۲ ؍۱۴۴۵) اسی طرح سے امام مالک نے نماز میں ہاتھ باندھنے سے متعلق روایت کو مؤطا میں جگہ دی ہے۔ لیکن ان کا عمل اس کے برخلاف ہے، کیونکہ مدینے میں جو سنت جاری تھی اس سے اس کی تائید نہیں ہوتی تھی اور مشہور محدث امام سفیان ثوری نے نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنے، آمین آواز سے کہنے وغیرہ سے متعلق روایتیں بیان کی ہیں لیکن اس پر ان کا عمل نہیں تھا، کیونکہ یہ ایک دو لوگوں سے منقول روایتیں ہیں جو اس سنت کے برخلاف ہیں جو متعدد صحابہ کرامؓکے ذریعے سے کوفے میں جاری تھی، غرضیکہ حدیث کی صحت پر اتفاق کے باوجود اختلاف ہوسکتا ہے اور ہوا ہے۔ اس لئے کہ اختلاف کی وجہ محض حدیث کا ثبوت یا عدم ثبوت نہیں ہے بلکہ اس کے متعدد اسباب ہیں۔

اختلاف کے آداب

اختلاف کی نوعیت خواہ کیسی بھی ہو اس میں سنجیدگی، متانت اور وقار کے دامن سے وابستہ رہنا ضروری ہے۔ لڑائی، جھگڑا، گالم وگلوج اور طعنہ زنی سے بچنا لازمی ہے۔ یہاں تک کہ کفر و شرک اور بدعت وضلالت کے حامیوں سے اعلان برأت تو ضروری ہے لیکن ان کے ساتھ بھی بحث و مباحثے میں تیز و تند اور تکلیف دہ الفاظ کے استعمال سے پرہیز کرنا بھی لازمی ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِيْ ہِىَ اَحْسَنُ۔ (سورہ نحل: ۱۲۵)

اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلائو اور لوگوں سے بہتر طریقے سے گفتگو کرو۔ (سورہ نحل: ۱۲۵)

اس لیے کہ مقصد حق کی تفہیم اور تبلیغ ہے، جس کے لیے نرم خوئی اور دل سوزی، شفقت اور ہمدردی، خوبصورت انداز بیان اور مشفقانہ لب ولہجہ مطلوب اور مفید ہے۔ درشتی اور تلخی، بداخلاقی اور سخن پروری اس راہ میں نہایت مضر اور بے نتیجہ ہے اور دلآزار اور جگر خراش باتوں کا الٹا اثر ہوتا ہے۔ اللہ عزوجل نے فرعون جیسے سرکش اور گمراہ کے پاس حضرت موسیٰؑ اور حضرت ہارون ؑ جیسے پیغمبر اور مصلح کو بھیجتے ہوئے حکم دیا:

فَقُوْلَا لَہٗ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّہٗ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰى۔ (طٰہٰ:۴۴)

تم دونوں اس کے نرم لہجے میں گفتگو کرو ہوسکتا ہے کہ وہ نصیحت قبول کرلے۔

فرعون کے متعلق اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ وہ راہ راست پر نہیں آسکتاہے، اس کے باوجود ایک معصوم نبی کو تلقین کی جارہی ہے کہ اس سے نرمی سے بات کرو۔ ظاہر ہے کہ ہم میں سے کوئی پیغمبرسے بڑھ کر ہمدرد اور مصلح نہیں ہوسکتا ہے اور نہ اسے معلوم ہے کہ اس کا مخاطب بہرحال باطل پر قائم رہے گا تو ایسی حالت میں سخت اور دل آزار گفتگو کی اجازت کیسے ہوسکتی ہے۔ حکمت اور مخاطب کی رعایت کرتے ہوئے ایک موقع پر قرآن حکیم میں کہا گیا ہے:

قُلْ مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝۰ۭ قُلِ اللہُ۝۰ۙ وَاِنَّآ اَوْ اِيَّاكُمْ لَعَلٰى ہُدًى اَوْ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ۔قُلْ لَّا تُسْـَٔــلُوْنَ عَمَّآ اَجْرَمْنَا وَلَا نُسْـَٔــلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۔ (سورہ سبا:۲۴۔۲۵)

ان سے پوچھو کہ تمھیں آسمان اور زمین سے روزی کون دیتا ہے اور خود ہی جواب دو کہ اللہ تعالیٰ اور کہہ دو کہ ہم یا تم یقیناً ہدایت پر ہیں یا کھلی گمراہی میں، ان سے کہہ دو کہ ہمارے جرم کی بابت تم سے سوال نہیں کیا جائے گا اور نہ تمہارے اعمال کے بارے میں ہم سے پوچھا جائے گا۔

یہ بات یقینی اور قطعی ہے کہ کافر ومشرک کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہیں، لیکن اس کے باوجود دو ٹوک لہجے میں یہ نہیں کہا گیا کہ تم گمراہ ہو، بلکہ کہا گیا کہ ہم میں اور تم میں سے کوئی ایک یا تو ہدایت پر ہے یا گمراہ ہے، اسی طرح سے رسول اور ان کے پیروکارو ں کے افعال کے متعلق جرم کا لفظ استعمال کیاگیا اور جو واقعی مجرم تھے ان کے لیے عمل کا لفظ بولا گیا۔

اجتہادی مسائل اور فقہی و علمی اختلاف میں یہ طریقہ ہونا چاہیے کہ اپنے مسلک کو چھوڑا نہ جائے اور دوسرے کے مسلک کو چھیڑا نہ جائے، نہ چھیڑنے کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ علمی تنقید نہ کی جائے بلکہ علمی تنقید کا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھنا چاہیے ، البتہ اسے لڑائی ، جھگڑا اور دلوں میں دوری کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔ کشادہ دلی کے ساتھ اختلاف اور تنقید کو برداشت کرناچاہیے، نیز کسی کو اپنے خیال اور رائے کا پابند نہیں بنانا چاہیے۔ یہ ایک بے جا اور غیرفطری خواہش ہے کہ تمام لوگ کسی ایک رائے پر جمع ہوجائیں، اپنے مسلک و مذہب کو دلائل کےساتھ بیان کرنے میں اور اسے راجح قرار دینے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن اس کی طر ف دعوت دینا غلط ہے۔ اس لیے کہ دعوت دین کی طرف ہونی چاہیے نہ کہ مسلک ومذہب کی طرف۔

حج کے موقع پر رسول اللہ ﷺچار رکعت والی نماز کو مسافر ہونے کی وجہ سے دور کعت پڑھا کرتے تھے، حضرت ابوبکر صدیق ؓو حضرت عمر فاروق ؓ کا بھی یہی طریقہ تھا، خلافت کے بعد کچھ سالوں تک حضرت عثمان غنیؓ بھی اسی پر عامل رہے لیکن پھر انھوں نے چار رکعت پڑھنا شروع کردیا، صحابہ کرامؓ میں سے بہت سے صحابہ ؓ نے اس سلسلے میں ان پر تنقید کی۔ جن میں سرفہرست حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا نام ہے، لیکن جب نماز شروع ہوئی تو وہ بھی شامل ہوگئے اور چار رکعت ادا کی، ان سے اس کی بابت سوال کیاگیا توفرمایا الخلاف شر لڑنا، جھگڑنا بری بات ہے ۔ (مصنف عبدالرزاق ۴۲۶۹) یعنی اختلاف اور تنقید اپنی جگہ لیکن اسے افتراق اور انتشار کا ذریعہ بنا لینا اور دوسروں پر اپنی رائے مسلط کرنا درست نہیں ہے۔

حضرت عمر فاروق ؓ کے پاس ایک صاحب مسئلہ دریافت کرنے کے لیے آئے ، انھوں نے کہا کہ جائو علی اور زید سے پوچھ لو، وہ معلوم کرکے آئے اور حضرت عمرؓ کو اس کی اطلاع دی، انھوں نے کہا کہ اگر میں ہوتا تو اس کے برخلاف فیصلہ کرتا، سائل نے کہا کہ آپ بااختیار ہیں، آپ کو ایسا کرنے سے کس نے روکا ہے، انھوں نے کہا کہ اگر کتاب وسنت میں صراحتاً اس کا حکم مذکور ہوتا تو میں ضرور اسی کے مطابق فیصلہ کرتا، لیکن یہ صرف میری ایک رائے ہے اور رائے کے سلسلے میں ہم اور وہ دونوں برابر ہیں۔ اس لیے کسی کو دوسرے کی رائے کا پابند نہیں بنایا جاسکتا ہے۔(دیکھیے اعلام الموقعین۱؍۵۴)

اجتہادی مسائل میں کسی پر نکیر کرنا بھی درست نہیں ہے کیونکہ اس طرح کی چیزوں میں اختلاف، حق اور باطل کا اختلاف نہیں ہے بلکہ صواب اور غیر صواب کا اختلاف ہے، اور نکیر کسی منکر پر کیا جاتا ہے اور یہ منکر نہیں بلکہ اس میں ہرفریق لائق اجر ہے،اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے:

اِذا حکم الحاکم فاصاب لہ اجر ان واذا حکم فاخطافلہ اجر واحد۔ (بخاری ومسلم)

حاکم اپنے اجتہاد کے ذریعے درست فیصلہ کردے تو اسے دوہرا اجر ہے اور جب فیصلے میں چوک ہوجائےتو اکہرا ثواب ہے۔

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اجتہادی مسائل میں غلطی ہوسکتی ہے اور غلطی ہونے کا مطلب ہے کہ اختلاف ہوگا، اور غلطی کے باوجود اجر کا ثبوت اس اختلاف کے جائز ہونے کی دلیل ہے۔

حضرت یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ اہل فتویٰ کے درمیان ہمیشہ بعض چیزوں کے حلال و حرام ہونے میں اختلاف رہا ہے لیکن حلال یا حرام قرار دینے والوں میں سے کوئی ایک دوسرے کے متعلق یہ خیال نہیں کرتا کہ جسے وہ حلال یا حرام سمجھ رہا ہے دوسرا اس کے برخلاف سمجھنے کی وجہ سے ہلاک ہوگیا۔(جامع بیان العلم ۲؍۸۸)

اور امام شافعی لکھتے ہیں کہ جو آدمی کسی علمی وفقہی مسئلے میں مجھ سے اختلاف رکھتا ہے میں اس سے یہ نہیں کہتا کہ وہ اللہ سے توبہ کرے کیونکہ توبہ گناہوں سے ہوتی ہے اور ایسا آدمی گنہگار نہیں ہوتا ہے، بلکہ ایک یا دو ثواب کا حقدار ہوتا ہے۔(اختلاف رائے آداب واحکام ، ڈاکٹر سلمان فہدعودہ؍۱۰۳)

اور علامہ ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ جو لوگ اجتہاد کرتے ہیں ، اہل سنت ان کو گنہگار نہیں مانتے ہیں۔ وہ اس معاملے میں اصول فروع کے درمیان کسی فرق کے قائل نہیں ہیں، لہٰذا جو شخص اللہ عز و جل کی مراد کو سمجھنے کی پوری کوشش کرے اور وہ اس کا اہل ہوتو وہ اس اجتہاد کی وجہ سے گنہگار نہیں ہوگا بلکہ وہ ایک یا دو اجر کا مستحق ہوگا، حاصل یہ ہے کہ اجتہادی مسائل میں کسی کو گنہگارقرار دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے اور نہ اس کی وجہ سے مسلمانوں سے قطع تعلق صحیح ہوگا۔ (مجموع الفتاویٰ ۱۳؍ ۱۲۵)آج صورتحال یہ ہے کہ اس طرح کے مسائل میں اختلاف کی بنیاد پر مخالفین کو گمراہ کہا جارہا ہے، یہاں تک کہ امت کے فقہاء اور محدثین پر فرد جرم عائد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ نمازیں تو بہت ناپ تول کے ادا کی جارہی ہیں، اور اس سلسلے کے بعض اختلافی مسائل میں ایسے جوش وجذبے کامظاہرہ کیا جارہا ہے گویا کہ یہی مدار نجات ہیں، لیکن ان کی زبانیں اساطین امت کی آبروریزی سے تر رہتی ہے وہ زندہ وسودہ سب کی عزت وآبرو پر خاک ڈالتے رہتے ہیں لیکن انھیں اس کی کوئی پروا نہیں ۔ وہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ فقہی اختلاف ایک دینی اختلاف ہے اور یہی وہ فرقہ بندی ہے جس سے قرآنی آیتوں اور حدیثوں میں منع کیاگیا ہے۔ ڈاکٹر صالح بن عبداللہ بن حمید کہتے ہیں کہ یہ روش غلط اور کوتاہ نظری ہے کیونکہ یہ بات گزر چکی ہے کہ کچھ اختلاف جائز ہوتا ہے، اور ان لوگوں کے اس خیال کا انجام سلف امت ، صحابہ وتابعین، ائمہ مہدیین اور ان کے متبعین کو ملعون قرار دینا ہے۔ (ادب الخلاف ؍۵۴)

(جاری)