سائنس، مذہب اور سماج

مذاہب کا ارتقا

ڈاکٹر محمد رضوان

سيکرٹري، سينٹر فار اسٹڈيز اينڈ ريسرچ، جماعت اسلامي ہند، دہلي؛

ايسوسي ايٹ پروفيسر شعبہ موليکولر بائيولوجي، ناگپور يونيورسٹي، مہاراشٹر

 

پچھلے مضمون میں مذہبی عصبی نفسیات سے متعلق تفصیل سے یہ بات آئی کہ کس طرح مذہبی عقائد اور تصورات کی توجیہ مذہبی عصبی نفسیات سے اور شعور و ادراک کی توجیہ فزیوکیمیائی تبدیلیوں سے کی جاتی ہے۔ ذیل کی سطور میں مذہب کے ارتقائی تصور پر تفصیل سے گفتگو کی جائے گی۔

دنیا کے تقریباً تمام محققین تصور ارتقا کو ایک ثابت شدہ حقیقت مانتے ہیں۔ وہ تصور ارتقا (نہ کہ نظریۂ ارتقائے انسانی) کو اس بات کا اہل مانتے اور سمجھتے ہیں کہ یہ تصور انسانی زندگی اور اس سے جڑے ہر پہلو کا کافی و شافی جواب دے سکتا ہے۔ مثلاً مذہبی عقائد، زندگی وغیرہ۔ زندگی کی ابتدا سادہ کیمیا مادوں سے ہوئی اور ان کیمیائی مادوں کے پیچیدہ تعاملات سے ہوتی ہوئی ابتدائی خلیے تک پہنچی۔ پھر اس ابتدائی خلیے سے پیچیدہ یک خلوی جاندار تک اور پھر اس یک خلوی جاندار سے کثیر خلوی جاندار اور اس کے بعد حیات کے تمام تر پیچیدہ مظاہر بشمول انسان وجود میں آئے (تصور ارتقا اور نظریہ ارتقائے انسانی پر تنقید اور متبادل تصورات پر تفصیلی سیریز زندگی نو میں نومبر ۲۰۱۹ تا ستمبر ۲۰۲۰ کے شماروں میں شائع ہوئی ہے۔ قارئین اسے وہاں دیکھ سکتے ہیں۔)

بعد ازاں تصور ارتقا کی توسیع ہر محسوس اور غیر محسوس تک کردی گئی۔ جیسے مذہب، اخلاقی رویہ، شعور و ادراک کی اعلیٰ سطحیں، جذبات، احساسات وغیرہ۔ اب حالت یہ ہے کہ سائنٹزم کے زیر اثر (سائنس کے زیر اثر نہیں) کائنات اور اس سے جڑی ہر شے جیسے انسان، مظاہر فطرت، انسانی رویے، مارکیٹ، مارکیٹ میں کام فرما غیر محسوس اور اعداد و شمار کے احاطے میں نہ آنے والی قوتیں، کائنات کے پراسرار مناظر، مادے اور غیر مادے اور اس سے ماورا تصورات، غرض ہر نظر آنے والی اور نہ نظر آنے والی ہر محسوس اور غیر محسوس، ہر مرئی اور غیر مرئی اور ہر رویہ، ہر مظہر اور غیر مظہر ایک ارتقائی فریم ورک میں قید کر دیے جاتے ہیں۔ مذہب کے سلسلے میں بھی بعینہ یہی بات ہے۔ ارتقائی فریم ورک اور سائنٹزم والی اساس میں مذہب کو کسی فوق الفطرت ہستی کی طرف سے دیا گیا ہدایت نامہ یا ضابطہ حیات نہیں مانا جاتا۔ نہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ کسی انسان یا فرشتہ کے ذریعے کسی خالق یا مقتدر خدا نے انسانوں کے لیے زندگی گزارنے کا طریقہ کے طور پر بالواسطہ بھیجا ہے، بلکہ اس قسم کی سائنس میں مذہب کو شعور و ادراک کے اعلیٰ ارتقائی مظاہر کے طور پر مانا جاتا ہے۔

مذہب کے ارتقائی تصور کے بیانیے کو درج ذیل نکات کے تحت بیان کیا جاسکتا ہے:

1.     مذہب/ مذاہب آسمانی نہیں ہیں یہ انسانوں کے ذریعے اور انسانوں کے درمیان ارتقا پذیر ہوئے ہیں۔

2.    مذہب/ مذاہب اپنی ابتدائی شکلوں (رسومیات rituals) سے پیچیدہ عقائد کی جانب ارتقا پذیر ہوئے ہیں۔

3.   مذاہب گروہی فٹنس دیتے ہیں۔ یعنی وہ انسان اور انسانی نوع کو بحیثیت ایک گروہ بہتر بقا کی ضمانت دیتے ہیں اس لیے وہ اہم ہیں۔

4.   آج کے پیچیدہ مذہبی فلسفہ/ رسومیات/ عقائد اور ساختی مذاہب کی ابتدائی شکلیں یا تصورات دور جدید میں بھی موجود قدیم غیر متمدن قبائل (primitive tribals) جیسے انڈمان اور زمبابوے یا مشرقی افریقہ میں موجود قبائلی سوسائٹیوں میں دیکھے جاسکتے ہیں۔

5.    جدید انسان کے قریبی عم زاد نیئنڈرتھل اور دیگر کے ذریعے بنائی گئی پینٹنگز میں بھی ابتدائی رسومیات کی جھلک ملتی ہے جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ آج کے پیچیدہ مذہب ماضی میں سادہ شکلوں میں موجود رہے ہوں گے۔ اور انسانی شعور و ادراک میں ارتقا کے ساتھ ساتھ مذاہب بھی ارتقا پذیر ہوتے رہے۔

مندرجہ بالا بیانیہ مختصراً ان پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے جو ارتقائے مذہب کے تصور سے وابستہ ہیں۔ لیکن ضروری محسوس ہوتا ہے کہ ان نظریات کا بھی تذکرہ کیا جائے جو ارتقائے مذاہب کے سلسلے میں پیش کیے جاتے ہیں تاکہ اس بیانیے کے علمی خلا (knowledge gap) کا اندازہ قارئین کرسکیں۔ اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ یہاں صرف انھی نظریات کا اجمالی تذکرہ کیا جائے گا جو ارتقائی فریم ورک میں مذاہب کی تشریح کرتے ہیں۔ مذاہب کی عمرانیاتی (anthropological) تشریح یہاں مقصود نہیں ہے۔

سب سے دل چسپ بات یہ ہے کہ ارتقائے حیات یا ارتقائے انسان کے تصورات کے تانے بانے بہت دور ماضی میں جاکر مل جاتے ہیں لیکن مذہب کے ارتقائی تصورات ڈارون کے مشہور زمانہ تصور ارتقا کے بعد ہی منظر عام پر نظر آتے دکھائی دیتے ہیں۔ یعنی تصور ارتقا کی توسیع انسانی زندگی سے جڑے انتہائی اہم پہلو جیسے مذہب، مذہب سے اخذ کردہ اخلاقیات اور مختلف دیگر مظاہر کائنات تک نہیں ہوئی تھی۔ انسانی تاریخ میں مذہب کا غیرمعمولی رول مسلم تھا۔ مذہب کو ماخذ اخلاقیات اور محرک اخلاقیات دونوں مقامات پر کلیدی حیثیت حاصل تھی۔ ہمارے نزدیک نظریہ ارتقائے انسانی کے بعد ہی تصور ارتقا کی توسیع مذہبی عقائد اور امور اور رسومیات تک کردی گئی اور اس کی ابتدا ایڈورڈ برنٹ ٹائلر نےکی۔۱۸۷۱ میں ان کی کتاب Primitive Culture شائع ہوئی۔ ہمارے نزدیک ایڈورڈ ٹائلر ارتقائے مذاہب کے تصور کے بانی کہے جاسکتے ہیں۔ ان کی یہ مشہور کتاب دو جلدوں میں ڈوور پبلی کیشنز نیویارک نے شائع کی ہے۔ (۱)

ٹائلر نے اس کتاب میں ثقافت، فلسفہ اور مذاہب کے سلسلے میں عقلی بحث کی ہے۔ لیکن وہ سارے کے سارے مباحث ارتقائی فریم ورک میں ہیں۔ اس لیے جیسے ہی اس فریم ورک میں رخنہ آتا ہے یا اسے زیادہ لچک دار بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، یہ مباحث فرسودہ ہوجاتے ہیں۔ ان مباحث میں سب سے اہم نسمیت (animism) کا تصور ہے۔ اس تصور کی جڑیں اس سوال میں مضمر ہیں کہ مذہب کی سب سے ابتدائی یا سادہ شکل /رسم کیا ہے۔

بالفاظ دیگر اگر یہ معلوم کرلیا جائے کہ موجودہ پیچیدہ عقائد جیسے ایک سے زیادہ خداؤں پر یقین، ایک خدا پر یقین، ایک کامل اور مقتدر دخل دینے والے خدا پر یقین، ان یقینوں سے پیدا ہونے والے شعار جیسے قربانی، ہدایت کا ماننا اور اس کے لیے تکلیف اٹھانا یا اپنے نقصان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے دوسرے انسان کی خدمت کرنا وغیرہ ان سب کی سادہ ترین شکلیں کیا ہیں تو پھر ان سادہ شکلوں کو آج کی ان پیچیدہ شکلوں سے مربوط کیا جاسکتا ہے اور یہ ثابت کیا جاسکتا ہے کہ مذاہب انسان ہی کے بنائے ہوئے ہیں۔ اس کے لیے ٹائلر نے مشہور زمانہ اصطلاح نسمیت (animism) وضع کی۔

نسمیت: ٹائلر کے نزدیک مذہب کی سب سے ابتدائی شکل روح یا ارواح پر عقیدہ ہے۔ نسمیت یا اینمزم اصطلاح کی تعریف کئی طریقے سے کی جاتی ہے، لیکن عمومی تعریف یہ ہے کہ فطری مظاہر اور اشیا سب میں روح ہوتی ہے۔ اور یہ روح انسانوں کو نفع یا نقصان پہنچانے کی قوت رکھتی ہے۔ ہندوستان میں ہندو مذہب کی ایک خاص شکل بلکہ غالب شکل کا آج بھی یہی نظریہ ہے۔

نسمیت کے زیر اثر پرانے قبائل میں آج بھی ارواح کو خوش کرنے کے لیے قربانی دی جاتی ہے۔ مختلف دیوتاؤں کی روحوں کو چڑھاوے چڑھائے جاتے ہیں۔ خود ہندوستان کے بہت سے گاؤں دیہات میں بڑے بوڑھوں کی روحوں کی تسکین کے لیے ایک مقررہ دن مختلف انواع کے پکوان اور پھل ایک خاص جگہ رکھے جاتے ہیں اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ ارواح ان کو آکر استعمال کریں گی، ان کی تسکین ہوگی اور اس کے نتیجے میں وہ خوش ہو کر برسات یا موسم کی تبدیلی کے لیے عوام کے فائدے کے لیے کام کریں گی۔

اسی طرح کن کن میں بھگوان کا تصور بھی ہندوستان میں بڑی شدت کے ساتھ راسخ ہے۔ یہاں ان تصورات پر بحث یا ان کے انحرافات پر بات کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ یہ دکھانا مقصود ہے کہ کس طرح نسمیت کے نقطہ نظر کو آج کے مذاہب و عقائد میں دیکھا جاسکتا ہے۔

اگر آسان لفظوں میں ٹائلر کی تھیوری کو بیان کیا جاسکتا ہے تو وہ کچھ یوں ہے کہ موت، طبعی مظاہر، خواب وغیرہ کی توجیہ کے لیے قدیم ترین انسان یا انسان نما جانداروں نے یہ سوچا ہوگا کہ ضرور کوئی نظر نہ آنے والی شے ان عوامل کے لیے ذمہ دار ہے۔ جاندار میں سے کوئی شے نکل جاتی ہے اس لیے وہ حرکت کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ خواب میں انسان جسم کے ساتھ نہیں آسکتا۔ اور ہوا کو پکڑا نہیں جاسکتا۔ اسے چھو کر نہیں دیکھا جاسکتا۔ غرض اس طرح کے ہزاروں مظاہر نے اسے اس بات پر سوچنے کے لیے مجبور کیا اور ان تمام مظاہر کو لاطینی زبان میں anima (روح) سے موسوم کیا گیا۔ روح کا یہ ابتدائی تصور دھیرے دھیرے ارتقا پا کر کئی طرح کی ارواح پر عقیدے کا باعث بنا اور اسی طرح ترقی پاتا ہوا خدا کے تصور تک جاپہنچا یعنی ارواح بعد میں خداؤں کے تصور میں تبدیل ہوگئیں۔ ٹائلر کے نسمیت کے تصور کو خاکے کی شکل میں بھی سمجھا جاسکتا ہے۔

ابتدائی انسان نما جاندار/ انسان فطری مظاہر، بجلی کا کڑکنا، دن/ رات، موت /خوف، گھبراہٹ، خواب ابتدائی تصور روح، جادو غیر محسوس اشیا علت ہونا کئی ارواح کا تصور اور ارواح کا مقتدر ہونا مقتدر ارواح، مقتدر خدائی ہستیاں مقتدر خداؤں کا تصور

ٹائلر کے نظریہ نسمیت میں کئی طرح کی خامیاں ہیں اور اس پر تنقید بھی کی گئی ہے۔ اس تھیوری کی چند اہم خامیاں حسب ذیل ہیں:

     ٹائلر کے تصور کے مطابق مذہب کی تعریف میں ہر چھوٹے بڑے عقیدے اور تصور کو رکھا جاسکتا ہے۔ یعنی اس تھیوری میں مذہب کی تعریف ہی میں سب سے بڑا سقم ہے۔

     یہ تھیوری ایک مقتدر خدا کے تصور کی وضاحت نہیں کرپاتی۔

     قدیم ترین انسان یا انسان نما جاندار کیسے سوچتے تھے یا کیا سوچتے تھے اس کا براہِ راست یا بالواسطہ کوئی ثبوت نہیں ہے۔

دوسرے نظریات وہ ہیں جو دو فریم میں ہیں۔ ایک تطبیقی (adaptationist) ہے، دوسرا غیر تطبیقی (non- adaptationist

نظریہ تطبیق: اس فریم میں نظریات کے مطابق مذاہب بہت سارے فائدے دیتے ہیں۔ مثلاً زیادہ سماجی ارتباط(social cohesion)، بہترین دماغی و جسمانی صحت اور لمبی زندگی۔ (۲) اس کے لیے درجِ ذیل چار ثبوت پیش کیے جاتے ہیں:

1.        قدیم ترین زمانے سے شَمَن پرستی (shamanism)کی ریت کو دیکھا جاسکتا ہے۔

2.       شمن پرستی سے مراد وہ مذہبی روایت ہے جس میں کوئی شخص کسی دوسرے فرد کی بدلی ہوئی شعوری حالت کا استعمال کرکے اس کا اعلان کرتا ہے، یا روحوں کو طلب کرکے ان سے مختلف اشیا کا پتا لگاتا ہے، یا روحوں کے ذریعے علاج کرتا ہے، وغیرہ۔ جدید دور میں ہر سوسائٹی میں آج بھی شَمَن پرستی کی بدلی ہوئی شکلیں دیکھی جاسکتی ہیں۔ وچ کرافٹ یا موکل جنات عامل کے تابع ہوتے ہیں۔ یہ شَمَن پرستی ہی کی قبیل سے تعلق رکھتے ہیں۔ یوروپ میں ارواح سے تعامل اور ارواح کا استعمال آج بھی ایک زمینی حقیقت ہے (علی الرغم اس کے کہ اس کا کوئی فائدہ ہے یا یہ صحیح یا غلط ہے)۔ قدیم ترین انسان یا انسان نما جانداروں کی سوسائٹی میں شَمَن پرستی دیکھی جاسکتی ہے۔ اور اس کی ارتقا پذیر شکلیں ہر دور میں سلسلہ وار نظر آتی ہیں۔

3.       تحقیقات کے بعد یہ بات تقریباً طے شدہ معلوم ہوتی ہے کہ مذاہب بہتر دماغی اور جسمانی صحت کے ضامن ہیں۔ (دیکھیے راقم کا مضمون ، زندگی نو کا شمارہ مئی ۲۰۲۱)

4.      مذاہب نیچریت نواز (pronaturalist) ہیں۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ مذہبی افراد کے یہاں بچوں کی افزائش غیر مذہبی افراد سے زیادہ ہوتی ہے۔

5.       بڑے آسمانی مذاہب انسانیت کو ایک مقتدر خدا کا پتا دیتے ہیں جو نجات دہندہ ہے اور جس زمانے میں یہ مذاہب ارتقا پذیر ہوئے یا ان میں موجود ایک مقتدر خدا کا تصور ارتقا پایا وہ زمانہ انسانی تہذیب کا مشکل ترین زمانہ تھا۔ اس لیے ایسا تصور خدا جو انسانیت کو بچا سکے اس کا ارتقا پذیر ہونا ناگزیر تھا۔(۳)

تطبیقی نقطہ نظر گو کہ ارتقائی تصور کا سب سے اہم ستون ہے لیکن بجائے خود اس میں کئی طرح کی خامیاں ہیں۔

1.        بہت سارے خاصوں کی، جو موزونیت کا کوئی خاص فائدہ (fitness advantage) نہیں دیتے، ان کی بہت بڑی تعداد فطرت میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اس لیے اس بنیادی تصور میں ہی بڑا مسئلہ ہے کہ وہی خاصے ارتقا پاتے ہیں جو فائدہ دیتے ہیں۔

2.       اس اپروچ میں یہ مان لیا گیا ہے کہ انسانیت مختلف ایسے حالات سے گزر رہی تھی کہ اس میں ایک مقتدر خدا کا تصور ناگزیر تھا۔ لیکن دل چسپ بات یہ ہے کہ اس ابتلا (suffering) کا کوئی براہِ راست یا بالواسطہ ثبوت ہمارے پاس نہیں ہے۔

3.      مذاہب وسائل طلب (resource intensive) ہوتے ہیں۔ یعنی ان کے بعض تصورات جیسے قربانی، ایثار، خدا کی راہ میں تکلیف اور مصائب کو جھیلنا، آخرت کی کام یابی کے لیے دنیا میں بہت ساری تکالیف کو برداشت کرنا یہ تمام موزونیت کو کھودینے والے (fitness losing) ہیں۔ ان میں سے بعض کی کم زور توجیہ حیاتیاتی ایثار (biological altruism) سے کی جاتی ہے لیکن وہ بہت ہی زیادہ مختلف فیہ ہے۔ اس لیے اس پورے اپروچ پر ہی سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔

4.      جدید ملاحدہ جیسے رچرڈ ڈاکنس کی مانیں تو دور جدید میں مذاہب نوع انسانی کے لیے ایک خطرہ بن چکے ہیں۔ مذہب کی بنیاد پر کشت و خون ہو رہا ہے، مذہبی برتری کے لیے لوگ مار رہے ہیں اور مر رہے ہیں، مذہب کی بنیاد پر وجود میں آنے والی تہذیبیں ایک دوسرے سے ٹکرا کر نوع انسانی کو ختم کردینے کے درپے ہیں (یہ سب بہت ساری جزوی سچائیوں اور بڑے پیمانے کے پروپیگنڈے کے بیانیے ہیں۔ اور سنجیدہ اور غیر جانبدار تحقیق انھیں سرے سے رد کرچکی ہے!) اس لیے مذاہب کو دھیرے دھیرے صفحۂ ہستی سے مٹ جانا چاہیے۔ کیوں اب انسانی نوع کو ان مذاہب سے گروہی فٹنس نہیں مل رہی ہے۔ اس لحاظ سے اس خاصہ کو اب خاتمہ کی طرف گام زن ہوجانا چاہیے۔ لیکن اس کے بجائے ساری دنیا میں نہ صرف مذہب کا فروغ ہو رہا ہے بلکہ مجموعی طور پر مذہبیت (religiosity)کو مختلف شکلوں میں بڑھتے اور پھلتے پھولتے دیکھا جاسکتا ہے۔

5.       اس نکتے کی دلیل کی کاٹ اس طرح کی جاتی ہے کہ ارتقا ایک لمبے عرصے میں واقع ہوتا ہے۔ اس لیے مذہب جیسے خاصے کو جو انتہائی پیچیدہ ہے، ختم ہونے میں لمبا عرصہ لگے گا۔ لیکن جدید تحقیقات نے تو یہ بھی ثابت کیا ہے کہ بعض خاصے صرف ۳۰ سال کے قلیل عرصے میں بھی وجود میں آئے یا فنا ہوگئے تو اس کے سلسلے میں کیا کہا جائے گا۔ اگر اسے استثنا تسلیم کیا جائے تو مذہب کے سلسلے میں بھی یہ استثنائیت کیوں نہیں در آسکتی ہے؟

اس نقطہ نظر کے علاوہ دو مزید پہلوؤں سے مذاہب کے ارتقا پر بات کی جاتی ہے اور اس میں ضمنی طور پر کچھ اور نظریات پیش کیے جاتے ہیں جیسے ضمنی پیداوار (by product) یا غیر تطبیقی (non-adaptionist)

بائی پراڈکٹ نظریات کے مطابق مذہب شعور اور ادراک کے ارتقا کے دوران حاصل ہونے والا بائی پراڈکٹ ہے۔ اس کے مطابق مذہب کوئی ایسا خاصہ نہیں ہے جو ارتقا پذیر ہوا ہو۔ بلکہ شعور و ادراک کی مختلف سطحوں کے ارتقا کے ساتھ ساتھ رسومیات، عقائد، شعار وغیرہ وجود میں آتے چلے گئے۔

اس طرح کے نظریات یکایک سارے ارتقائی فریم کو رد کردیتے ہیں۔ لیکن اس طرح کے نظریات میں منہاجی (methodological) اور ثبوتی (evidential) خامیاں ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ دیکھیے (۴) اس پر درج ذیل اعتراض وارد کیے جاسکتے ہیں:

1.        اگر تصور ارتقا مذہب کی ابتدا اور اس کے ارتقا کو کما حقہ بیان کرسکتا ہے تو اس ماڈل کی نفی کیوں کی جاتی ہے؟ اگر نہیں تو یہ کیوں نہیں مانا جاتا کہ مذاہب کچھ خاص انداز سے انسانی سوسائٹی میں آئے ہوں گے؟

2.       اگر مذاہب رسومیات سے ارتقا نہیں پائے تو اس کی ابتدائی شکلیں کیوں سوسائٹی میں موجود رہی ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ذی شعور انسان میں مذاہب ہمیشہ سے موجود رہے ہوں اور ان کی ابتدائی شکلیں ابتدائی انسان یا انسان نما جانداروں میں پائی جاتی ہوں وہ محض استثنائیات ہوں یا ساختی مذاہب کی بگڑی ہوئی شکلیں ہوں یا مذاہب کے باقیات ہوں!

3.      اس کا کوئی حتمی ثبوت نہیں ہے کہ ارتقائی دورانیوں میں رسومیات / مذاہب کا خطی (linear) یا جالدار (web) ارتقا ہوا ہو۔ جتنا کچھ ہے وہ توسیعی (extensional) دلیلوں کی بنیاد پر ہے۔ ہمارے نزدیک ارتقائی سائنس میں توسیعی دلیل وہ کہی جائے گی جب جزوی ثبوت کو کلی ثبوت کے طور پر پیش کیا جانے لگے یا جزوی دلیل کو مکمل دلیل کے لیے بنیاد مان لیا جائے اور اسے دیگر جزوی دلیلوں کے ساتھ ملا کر ایک کامل دلیل بنا لیا جائے۔ مثلاً سب سے قدیم ترین انسان نما جاندار یا انسان کے رکازات کے سلسلے میں سب سے اہم دلیل لوسی کا ڈھانچہ مانا جاتا ہے۔ اس ڈھانچے کے صرف 34 فیصد ہڈیاں دریافت ہوئی ہیں اور 66 فیصد پلاسٹر آف پیرس کا استعمال کرکے ایک پورا ڈھانچہ تشکیل دیا گیا۔ کہا گیا کہ بہت ساری ہڈیاں اور جوڑ چوں کہ برابر مل رہے ہیں اور ایک ہی جگہ سے دریافت ہوئے ہیں اس لیے کامل ڈھانچہ ایک انسان نما جاندار یا انسان کا ہی ہوگا۔ (جب کہ اس مقدمہ پر زبردست تنقید ہے!) اب اس ڈھانچے کو مکمل انسانی ڈھانچہ باور کرانا ہمارے نزدیک توسیعی ثبوت یا توسیعی دلیل ہے۔ اسی طرح سے چند ایک پینٹنگز، کچھ ایک آدھ رسم یا رسوم کے بالواسطہ یا بعض اوقات بلاواسطہ ثبوت کو یہ باور کرانا کہ یہ مذہب کی ابتدائی شکل ہے، یہ بھی ایک توسیعی دلیل کہی جائے گی۔

مندرجہ بالا تین نکات کے علاوہ ان نظریات پر بائبل کے تخلیق کے ماننے والے محققین کی بھی اکا دکا تنقیدیں ہیں لیکن ان کا کافی و شافی جواب دیا جاچکا ہے۔

مذہب کے ارتقا کے سلسلے میں ایک تھیوری میم تھیوری (meme theory) بھی ہے جسے رچرڈ ڈاکنس نے اپنی کتاب The Selfish Gene میں پیش کیا ہے۔ اس تھیوری کے مطابق مذاہب، رسومیات، عقائد اور شعار میم کی طرح ہوتے ہیں میم سے مراد وہ خاکہ، ویڈیو، تصویر، جو ایک شخص سے دوسرے شخص تک ترسیل ہوتا ہے اور افراد اور اشخاص، سوسائٹی میں پھیل جاتا ہے اور مقبول و معروف ہوجاتا ہے)۔ یہ میم (یہاں میم بمعنی مذہبی تصورات، عقائد وغیرہ) جین کی طرح انسانی سماج میں ترسیل ہوئے ان میں جو زیادہ بہتر تھے وہ باقی رہے جو نہیں تھے وہ کم ہوگئے یا ختم ہوگئے۔ جس طرح دوران ارتقا وہ جین جو کچھ بہتر خاصے جانداروں میں پیدا کرتے تھے وہ باقی رہے اور ارتقا پاتے رہے اور وہ جین جو بہتر خاصے پیدا نہیں کرسکے وہ فنا ہوتے چلے گئے۔

میم تھیوری گو کہ مذاہب کے ارتقا کی جدید ترین تھیوری کہی جاتی ہے۔ لیکن ہمارے نزدیک درج ذیل وجود سے یہ سب سے کم زور تھیوری ہے:

1.        یہ تھیوری محض تطبیقی ماڈل کا جینی اطلاق ہے یعنی نظریہ تطبیق ہی کو دوسرے لفظوں کا استعمال کرکے سمجھانے کی کوشش ہے۔ جین کو میم سے مماثلت دے کر فطری انتخاب کے راستے مذاہب کے ارتقا کا پرانا بیانیہ ہے۔ یعنی نئی بوتل میں پرانی شراب ہے۔

2.       جین واضح خاصے پیدا کرتے ہیں۔ اور رسومیات، شعار و عقائد سب کے سب اضافی ہیں۔ واضح ہو کہ جین اضافی نہیں ہیں کم از کم مذاہب اور اس سے جڑے تصورات کے مقابلے میں تو بالکل اضافی نہیں ہیں۔ اس لیے دونوں میں کوئی مشترکہ قدر تلاش کرنا کارِ عبث ہے۔

3.      میم تھیوری موجود خودغرضیت (self-promotion) جو موجودہ دور کی مذہبی اخلاقیات کے مخالف بیانیہ تخلیق دیتی ہے اور اس کی تشریح کرنے میں ناکام ہے۔

4.      مزید تفصیلات کے لیے دیکھیے (۵)

5.       درج بالا بیانیہ اور تھیوریز اور ان پر تنقیدی نکات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ:

6.       مذاہب کے ارتقا کا بیانیہ نہایت کم زور نظریات پر مبنی ہے۔ اس سلسلے میں جتنے ثبوت دیے جاتے ہیں ان تمام کی حیثیت صرف ثانوی درجے کی ہے۔ مزید یہ کہ یہ تمام بیانیے غیر معمولی تغیر سے گزرتے ہیں۔ مثلاً رسومیات کی ابتدا، عقائد کا ارتقا، مقتدر خدا کا تصور، سماج کی مذہبی تشکیل و تنظیم، مذاہب کے ارتقائی اور اس کے کلیدی رول کے تصورات، مذاہب کی گروہی فٹنس کے علی الرغم ثبوت وغیرہ۔

7.      تمام تر بالواسطہ ثبوت (جو کچھ بھی دیے جاتے ہیں!) وہ مذہب جیسی پیچیدہ صنعت (enterprise) (ارتقائی ماہرین کی نظروں میں!) کی وضاحت نہیں کرپاتے۔

8.      بالواسطہ ثبوت جتنے سوالوں کے جوابات دیتے ہیں ان جوابات سے اور زیادہ سوالات کھڑے ہوجاتے ہیں۔

9.       ارتقائی فریم ورک بجائے خود غیرمعمولی تغیر سے گزرا ہے/ گزر رہا ہے اس لیے اس فریم ورک سے مذہب جیسی شے کی توضیح و توجیہ بہت مشکل کام ہے۔

10.     مذاہب کا معلوم انسانی تاریخ میں رول اس کی غیرمعمولی اہمیت کا مظہر ہے۔ اس لیے اس کی توجیہ بھی غیرمعمولی بیانیوں اور دلائل سے ہونی چاہیے نہ کہ توسیعی اور بالواسطہ دلائل اور ثبوتوں سے۔

11.      دور جدید میں جسے طبعی سائنس کی نشاۃ ثانیہ کا دور کہا جاسکتا ہے اس دور میں مذہب کے ارتقائی تصور توجیہ کا اتنا ابتدائی سطح پر ہونا کہیں اس بات کی علامت تو نہیں کہ مذہب کا تصور اور خالص ساختی مذاہب دیگر فریم ورک کے محتاج ہیں۔

12.     تمام مذاہب میں بعض رسومیات کا تواتر اور یکسانیت کہیں ان کے ایک منبع سے ہونے کی دلیل تو نہیں ہے؟

13.    مذاہب، رسومیات اور شعار و عقائد کی متعینہ تعریف کے سلسلے میں جو اختلافات ہیں وہ مذاہب کے پورے ارتقائی بیانیہ پر سوالیہ نشان لگاتے نظر آتے ہیں۔

14.    بالواسطہ ثبوتوں میں طبعیات میں ادراک شعور (cognition) و دیگر پیچیدہ ادراک کے ارتقا پر کوئی اجماع نہیں ہے۔ نہ ہی اس کی ابتدا پر نہ ہی اس کے منبع پر نہ ہی اس کے مظاہر پر۔

15.    حال ہی میں integrated cognitive model (ICM) کو اختیار کرنے کی ترغیب دی جارہی ہے اس کی رو سے ابتدائی رسومیات، شعار و مذاہب ادراک و شعور کے ارتقا کے ضمنی ماحصل کے طور پر ابھرے۔ بعد میں چوں کہ یہ انتخابی فائدہ (selection advantage) دیتے تھے اس لیے یہ خاصہ کے طور پر ارتقا پذیر ہونے لگے۔

اس ماڈل میں گویا دونوں اپروچ انتخابی و تطبیقی (selectionist-adaptionist) اور غیرتطبیقی کو جمع کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یعنی بجائے اس کے کہ مذہب کی ابتدا اور انسانی سماج میں اس کے رول کی تشریح و توجیہ کے لیے دوسرے کسی فریم ورک کی تلاش کی جاتی وہی تخفیفی اور ارتقائی فریم ورک کو ملا جلا کر ایک چوں چوں کا مربہ تیار کرلیا گیا۔ ICM پر وہی سارے اعتراض طبعاً وارد ہوتے ہیں جو دونوں اپروچ پر انفرادی حیثیت میں در آتےہیں۔

مذاہب کے ارتقا کے بیانیے اور اس کے نظریات کے اجمالی جائزہ سے یہ بات کھل کر سامنے آگئی کہ ان تمام نظریات میں غیرمعمولی علمی خلا ہے۔ جسے پُر کرنے کے لیے غیرمعمولی علمی کاوشیں کی جارہی ہیں۔ لیکن یہ ساری کاوشیں ہمارے نزدیک ایک اضافی، تخفیفی اور قدیم فریم ورک میں کی جارہی ہیں۔ اس لیے ان سے اس علمی خلا کے پُر ہونے کی امید کم ہوتی جارہی ہے۔ اس کے بالمقابل اسلام کا مذہبی فریم ورک ہر اعتبار سے مناسب اور موزوں نظر آتا ہے۔ یہ فریم ورک اس اصول کا پتہ دیتا ہے کہ کائنات کی ابتدا کائنات کے محسوس و معلوم مبداء و مظہر سے پرے ہے۔ اس ابتدا کا خالق ایک ہے ۔ اس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا۔ یہ مخلوقات مرئی اور غیرمرئی دونوں اقسام کی ہیں۔ ان کی تخلیق کے مراحل اور ان کی تخلیق کے مناہج پر غور و فکر کے لیے اور نتائج کے اخذ کرنے کے لیے میدان کھلا ہے۔ یہ تحقیق تخلیق کے میکانسٹک پہلوؤں کو اجاگر کرسکتی ہے۔ اور اس بات کی ضمانت دے سکتی ہے کہ یہ عبث نہیں ہے، اور مذاہب کا اسلامی بیانیہ ان رویوں کو وجود میں لاسکتا ہے جو ساری انسانیت کے لیے فائدہ مند اور صحت بخش ہوسکتے ہیں۔

مذاہب کی صداقت اور ان کی ندرت و حسن کو اجاگر کرنے کے لیے خالق کائنات نے مختلف زبانوں میں انسانوں ہی میں سے منتخب افراد کو ان مذاہب کے ابدی اصولوں پر انسانی زندگی کو اور پوری انسانی تہذیب کو قائم کرنے کے لیے بھیجا اور ان کی ہدایت کا انتظام کیا۔ (جاری) n

حوالہ جات

1.       Primitive cultures By Edward Burnett Tylor, 2016 Dover Publications, Inc. Minoela, New York

2.       The Adaptationist-Byproduct Debate on the Evolution of Religion: Five Misunderstandings of the adaptionist program. Richard sosis Journal of Cognition and Culture 9 (2009) 315332

3.       Powell, Russell, and Steve Clarke. Religion as an Evolutionary Byproduct: A Critique of the Standard Model. The British Journal for the Philosophy of Science, vol. 63, no. 3, 2012, pp. 457486., www.jstor.org/stable/23253409. Accessed 13 Sept. 2021.

4.       Schrempp, Gregory. Taking the Dawkins Challenge, or, the Dark Side of the Meme. Journal of Folklore Research, vol. 46, no. 1, 2009, pp. 91100. JSTOR, www.jstor.org/stable/40206941. Accessed 13 Sept. 2021.

5.       ibid